جن کے آنگن میں امیری کا شجر لگتا ہے


25-06-2019 | انجمؔ رہبر

جن کے آنگن میں امیری کا شجر لگتا ہے

ان کا ہر عیب زمانے کو ہنر لگتا ہے

 

چاند تارے مرے قدموں میں بچھے جاتے ہیں

یہ بزرگوں کی دعاؤں کا اثر لگتا ہے

 

ماں مجھے دیکھ کے ناراض نہ ہوجائے کہیں

سر پہ آنچل نہیں ہوتا ہے تو ڈر لگتا ہے




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
سچ بات مان لیجئے چہرے پہ دھول ہے
جن کے آنگن میں امیری کا شجر لگتا ہے