افکار کی لذت کیا کہنا جذبات کا عالم کیا کہنا


15-09-2016 | عبد العلیم شاہینؔ

افکار کی ۔۔ لذت کیا کہنا ۔۔ جذبات کا عالم کیا کہنا

جب یادِ نبی ۔۔۔ آئے ایسے ۔۔ لمحات کا عالم کیا کہنا

کونین ہے جن کی نغمہ سرا ، جو رونقِ بزمِ عرشِ عُلیٰ

حق جن پہ فدا ہو صبح و مسا اُس ذات کا عالم کیا کہنا

جس بزم میں اُن کاذکررہے جس قلب میں وہ آبادرہیں

اللہ کی رحمت کی اُن پر ۔۔۔ برسات کا عالم کیا کہنا

قسمت سے کبھی جو دن اپنے طیبہ کی فضاؤں میں گزریں

اُن صبحوں کی کیفیت کیا ہو اُن راتوں کا عالم کیا کہنا

یہ صوم و صلوٰۃ و حج و زکوٰۃ ، یہ ذکرِ درود و استغفار

صدقہ ہے یہ اُن کا ایسی حسیں سوغات کا عالم کیا کہنا

جب عشقِ نبی کا پیمانہ ۔۔۔ شاہینؔ  عقیدت سے چھلکے

اُس وقت جو نکلیں پھر ایسے ۔۔ نغمات کا عالم کیا کہنا




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
ہر لب پہ ہے تیری ثنا ، ہر بزم میں چرچا ترا
زندگی ، زندگی ، پر خطر زندگی
چلتے چلتے ہیں پڑے پاؤں میں چھالے کتنے
جو دل میں رکھتا ہے میرے لئے عناد بہت
خوشی چاہتا ہوں نہ غم چاہتا ہوں