مجھے سہل ہوگئیں منزلیں وہ ہوا کے رُخ بھی بدل گئے

غزل| مجروحؔ سلطان پوری انتخاب| بزم سخن

مجھے سہل ہوگئیں منزلیں وہ ہوا کے رُخ بھی بدل گئے
ترا ہاتھ ہاتھ میں آ گیا کہ چراغ راہ میں جل گئے
وہ لجائے میرے سوال پر کہ اُٹھا سکے نہ جھکا کے سر
اُڑی زلف چہرے پہ اس طرح کہ شبوں کے راز مچل گئے
وہی بات جو نہ وہ کہہ سکے مرے شعر و نغمہ میں آ گئی
وہی لب نہ میں جنہیں چھو سکا قدحِ شراب میں ڈھل گئے
وہی آستاں ہے وہی جبیں وہی اشک ہے وہی آستیں
دلِ زار تو بھی بدل کہیں کہ جہاں کے طور بدل گئے
تجھے چشم مست پتہ بھی ہے کہ شباب گرمیٔ بزم ہے
تجھے چشم مست خبر بھی ہے کہ سب آبگینے پگھل گئے
انہیں کب کے راس بھی آ چکے تری بزمِ ناز کے حادثے
اب اٹھے کہ تیری نظرپھرے جو گرے تھے گر کے سنبھل گئے

مرے کام آ گئیں آخرش یہی کاوشیں یہی گردشیں
بڑھیں اس قدر میری منزلیں کہ قدم کے خار نکل گئے


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام