چین و عرب ہمارا ، ہندوستاں ہمارا


22-06-2015 | علامہ محمد اقبالؔ

چین و عرب ہمارا ............. ہندوستاں ہمارا

مسلم ہیں ہم، ....... وطن ہے سارا جہاں ہمارا

توحید کی امانت ........ سینوں میں ہے ہمارے

آساں نہیں مٹانا ............. نام و نشاں ہمارا

دنیا کے بت کدوں میں ...... پہلا وہ گھر خدا کا

ہم اس کے پاسباں ہیں ........ وہ پاسباں ہمارا

تیغوں کے سائے میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیں

خنجر ہلال کا ہے .............. قومی نشاں ہمارا

مغرب کی وادیوں میں ........ گونجی اذاں ہماری

تھمتا نہ تھا ...... کسی سے ....... سیلِ رواں ہمارا

باطل سے دبنے والے ...... ائے آسماں نہیں ہم

سو بار کرچکا ہے................. تو امتحاں ہمارا

ائے گلستاں اندلس! .........وہ دن ہے یاد تجھ کو

تھا تیری ڈالیوں پر.............. جب آشیاں ہمارا

ائے موج ِ دجلہ ! ........... تو بھی پہچانتی ہے ہم کو

اب تک ہے ...... تیرا دریا ...... افسانہ خواں ہمارا

ائے ارضِ پاک ! ....... تیری حرمت پہ کٹ مریں ہم

ہے خوں تری رگوں میں ........ اب تک رواں ہمارا

سالارِ کارواں ہے....... میرِ حجاز ............. اپنا

اس نام سے ہے باقی ............... آرامِ جاں ہمارا

اقبالؔ کا ترانہ....... بانگِ درا ............ ہے گویا

ہوتا ہے جادہ پیما ..... پھر کارواں.......... ہمارا




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
کبھی ائے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
حقیقتِ حسن ۔۔۔خدا سے حسن نے اک روز
کبھی دریا سے مثلِ موج ابھر کر
چین و عرب ہمارا ، ہندوستاں ہمارا