زمانہ بھر کی نگاہوں میں جو خدا سا لگے


25-03-2016 | محسؔن نقوی

زمانہ بھر کی نگاہوں میں جو خدا سا لگے

وہ اجنبی ہے ۔۔ مگر مجھ کو آشنا سا لگے

نجانے ۔۔ کب مری دنیا میں مسکرائے گا

وہ ایک شخص کہ خوابوں میں بھی خفا سا لگے

عجیب چیز ہے یارو یہ منزلوں کی ہوس

کہ راہزن بھی مسافر کو راہبر سا لگے

دلِ تباہ ! ۔۔۔۔ ترا مشورہ ہے کیا کہ مجھے

وہ پھول رنگ ستارہ بھی ۔۔ بے وفا سا لگے

 

ہوئی ہے جس سے منور ہر ایک آنکھ کی جھیل

وہ چاند ۔۔ آج بھی محسنؔ کو کم نما سا لگے




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
زمانہ بھر کی نگاہوں میں جو خدا سا لگے
میں خود زمیں ہوں مگر ظرف آسمان کا ہے
بہار کیا اب خزاں بھی مجھ کو گلے لگائے تو کچھ نہ پائے
قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ
صفحۂ وقت پہ تحریر بدل جاتی ہے