میرے ہم نفس میرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے

غزل| شکیلؔ بدایونی انتخاب| بزم سخن

میرے ہم نفس میرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے
میں ہوں سوزِ عشق سے جاں بلب مجھے زندگی کی دعا نہ دے
کبھی جام لب سے لگا دیا کبھی مسکرا کے ہٹا دیا
تری چھیڑ چھاڑ ائے ساقیا مری تشنگی کو بڑھا نہ دے
مرے گھر سے دور ہیں راحتیں مجھے ڈھونڈتی ہیں مصیبتیں
مجھے خوف یہ کہ مرا پتہ کوئی گردشوں کو بتا نہ دے
مرا عزم اتنا بلند ہے کہ پرائے شعلوں کا ڈر نہیں
مجھے خوف آتشِ گل سے ہے یہ کہیں چمن کو جلا نہ دے
درِ یار پر بڑی دھوم ہے وہی عاشقوں کا ہجوم ہے
ابھی نیند آئی ہے حسن کو کوئی شور کر کے جگا نہ دے
میں غمِ جہاں سے نڈھال ہوں کہ سراپا حزن وملال ہوں
جو لکھے ہیں میرے نصیب میں وہ الم کسی کو خدا نہ دے
مرے داغِ دل سے ہے روشنی یہی روشنی مری زندگی
مجھے ڈر ہے ائے مرے چارہ گر یہ چراغ تو ہی بجھا نہ دے
مجھے چھوڑدے مرے حال پر ترا کیا بھروسہ ائے چارہ گر
یہ تری نوازشِ مختصر مرا درد اور بڑھا نہ دے

وہ اٹھے ہیں لے کے خم و سبو ارے او شکیلؔ کہاں ہے تو
ترا جام لینے کو بزم میں کوئی اور ہاتھ بڑھا نہ دے


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام