پتے تمام حلقۂ صرصر میں رہ گئے

غزل| رؤوف خیرؔ انتخاب| بزم سخن

پتے تمام حلقۂ صرصر میں رہ گئے
ہم شاخِ سبز میں شجرِ تر میں رہ گئے
لکھ لینا اس قدر وہ سفینے نہیں مرے
ساحل پہ رہ گئے جو سمندر میں رہ گئے
اس لذتِ سفر کو میں اب ان سے کیا کہوں
جو سایہ ہائے سرو و صنوبر میں رہ گئے
آثار یک خرابۂ آباد ہو کے ہم
سینوں میں رہ نہ پائے تو پتھر میں رہ گئے
باہر ہی چھوڑ آئے وہ چہرہ جو خاص تھا
اک عام آدمی کی طرح گھر میں رہ گئے
رسوا انہیں بدن کے تقاضوں نے کر دیا
کیا لوگ تھے جو ٹوٹ کے پل بھر میں رہ گئے

تم تو انا کا ایک جزیرہ ہو سوچ لو
ایسے کئی جزیرے سمندر میں رہ گئے


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام