زندہ رہنا ہے تو سانسوں کا زیاں اور سہی

غزل| شکیلؔ اعظمی انتخاب| بزم سخن

زندہ رہنا ہے تو سانسوں کا زیاں اور سہی
روشنی کے لئے تھوڑا سا دھواں اور سہی
صبح کی شرط پہ منظور ہیں راتیں ہم کو
پھول کھلتے ہوں تو کچھ روز خزاں اور سہی
خواب تعبیر کا حصہ ہے تو سو کر دیکھیں
سچ کے ادراک میں اک شہرِ گماں اور سہی
وہ برش اور میں روتا ہوں قلم سے اپنے
درد تو ایک ہیں دونوں کے زباں اور سہی

کٹ گئے اپنی ہی مٹی سے تو جلدی کیا ہے
اب زمیں اور سہی اور مکاں اور سہی


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام