درد بھی دل میں نہیں کوئی تمنا بھی نہیں

غزل| میکشؔ امروہوی انتخاب| بزم سخن

درد بھی دل میں نہیں کوئی تمنا بھی نہیں
میں تجھے بھولنے والے ابھی بھولا بھی نہیں
یہ تیرا وعدۂ فردا کوئی بے جا بھی نہیں
زندگی کا مگر اے دوست بھروسہ بھی نہیں
لا کے چھوڑا ہے وہاں پر مری وحشت نے جہاں
دور تک اب کسی دیوار کا سایہ بھی نہیں
اس کو حالات نے مجبور کیا ہے شاید
بے وفا کیسے کہا جائے وہ ایسا بھی نہیں

ہم تو اس عالمِ حسرت میں ہیں میکشؔ کہ جہاں
کوئی پیغامِ محبت کبھی آتا بھی نہیں


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام