اگر دردِ محبت سے نہ انساں آشنا ہوتا

غزل| برج نرائن چکبستؔ انتخاب| بزم سخن

اگر دردِ محبت سے نہ انساں آشنا ہوتا
نہ کچھ مرنے کا غم ہوتا نہ جینے کا مزا ہوتا
بہارِ گل میں دیوانوں کا صحرا میں پرا ہوتا
جدھر اٹھتی نظر کوسوں تلک جنگل ہرا ہوتا
مۓ گل رنگ لٹتی یوں درِ میخانہ وا ہوتا
نہ پینے کی کمی ہوتی نہ ساقی سے گلا ہوتا
ہزاروں جان دیتے ہیں بتوں کی بے وفائی پر
اگر ان میں سے کوئی با وفا ہوتا تو کیا ہوتا
رلایا اہلِ محفل کو نگاہِ یاس نے میری
قیامت تھی جو اک قطرہ ان آنکھوں سے جدا ہوتا
خدا کو بھول کر انسان کے دل کا یہ عالم ہے
یہ آئینہ اگر صورت نما ہوتا تو کیا ہوتا

اگر دم بھر بھی مٹ جاتی خلش خارِ تمنا کی
دلِ حسرت طلب کو اپنی ہستی سے گلا ہوتا


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام