کیوں کر یہ کہیں اس ظالم کے ظلم اور ستم ہم سہہ نہ سکے

غزل| دھرمپال گپتا وفؔا انتخاب| بزم سخن

کیوں کر یہ کہیں اس ظالم کے ظلم اور ستم ہم سہہ نہ سکے
لیکن لب پر اف آ ہی گئی آخر ہم چپ بھی رہ نہ سکے
دل اور زباں پر قابو کیا الفت کی نظر کیا چھپتی ہے
پر شوق نگاہوں نے کہہ دی وہ بات جو منہ سے کہہ نہ سکے
عاشق کو ہو مطلب صبر سے کیا الفت کو سکوں سے کیا نسبت
حیف اس کشتئ عقل پہ جو جذبات کی رو میں بہہ نہ سکے
اشک آتے تمہاری آنکھوں میں دنیا تہ و بالا ہو جاتی
اچھا ہی ہوا افسانۂ غم تم سن نہ سکے ہم کہہ نہ سکے
بیمارئ غم نے وقتِ سحر گل کر دی شمعِ حیات آخر
کیا کرتے ہم انساں ہی تو تھے رنجِ شبِ فرقت سہہ نہ سکے
سمجھے تھے بہت کچھ کہنا ہے کہنے کی بہت سی باتیں ہیں
وہ آئے بھی اور چل بھی دیئے کچھ منہ سے مگر ہم کہہ نہ سکے
دشمن کو وفا سے کیا نسبت گھبرائے ہوئے کیوں پھرتے ہو
آ جاؤ ہماری آنکھوں میں گر غیر کے دل میں رہ نہ سکے
تنگ آ کے تمناؤں سے وفاؔ اب چاہتا ہوں دل میں اپنے
کوئی بھی تمنا آ نہ سکے کوئی بھی تمنا رہ نہ سکے



پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام