کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے


25-06-2015 | مظفرؔ وارثی

کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ،..... وہی خدا ہے
دکھائی بھی جو نہ دے نظر بھی جو آرہا ہے وہی خدا ہے

تلاش اُس کو نہ کر بتوں میں وہ ہے بدلتی ہوئی رُتوں میں
جو دن کو رات اور رات کو دن بنا رہا ہے ، وہی خدا ہے

وہی ہے مشرق وہی ہے مغرب سفر کریں سب اُسی کی جانب
ہر آئینے میں جو عکس اپنا دکھا رہا ہے ،........ وہی خدا ہے

کسی کو سوچوں نے کب سراہا  وہی ہوا جو خدا نے چاہا
جو اختیارِ بشر پہ پہرے بٹھا رہا ہے ،..... وہی خدا ہے

نظر بھی رکھے سماعتیں بھی وہ جان لیتا ہے نیتیں بھی
جو خانۂ لاشعور میں جگمگا رہا ہے ،....... وہی خدا ہے

کسی کو تاجِ وقار بخشے...... کسی کو ذلت کے غار بخشے
جو سب کے ماتھے پہ مہرِ قدرت لگا رہا ہے ، وہی خدا ہے

سفید اُس کا سیاہ اُس کا ،... نفس نفس ہے گواہ اُس کا
جو شعلہء جاں جلا رہا ہے...  بجھا رہا ہے ، وہی خدا ہے




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
تصور سے بھی آگے تک درو دیوار کُھل جائیں
اس کی عادت ہے بھلا دیتا ہے وعدہ کرکے
کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے