میں ترے لب پہ ہوں دیرینہ شکایت کی طرح

غزل| وصیؔ شاہ انتخاب| بزم سخن

میں ترے لب پہ ہوں دیرینہ شکایت کی طرح
یاد رکھا ہے مجھے تو نے عداوت کی طرح
چاند نکلے تو مرا جسم مہک اٹھتا ہے
روح میں اٹھتی ہوئی تازہ محبت کی طرح
تیری خاطر تو کوئی جان بھی لے سکتا ہوں
میں نے چاہا ہے تجھے گاؤں کی عزت کی طرح
ہجر میں تیرے کوئی لطف نہیں ہے باقی
اب تجھے یاد بھی کرتے ہیں تو عادت کی طرح
تم مری پہلی محبت تو نہیں ہو لیکن
میں نے چاہا ہے تمہیں پہلی محبت کی طرح
وہ جو آتی ہے تو پھر لوٹ کے جاتی ہی نہیں
تم لپٹ جاؤ کبھی ایسی مصیبت کی طرح

کوئی معصوم سا بچہ ہے مرے دل میں وصیؔ
جو تجھے سوچتا رہتا ہے شرارت کی طرح


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام