کون کہتا ہے شرارت سے تمہیں دیکھتے ہیں

غزل| وصیؔ شاہ انتخاب| بزم سخن

کون کہتا ہے شرارت سے تمہیں دیکھتے ہیں
جانِ من ہم تو محبت سے تمہیں دیکھتے ہیں
تم کو معلوم نہیں تم ہو مقدس کتنے
دیکھتے ہیں تو عقیدت سے تمہیں دیکھتے ہیں
دیکھ کے تم کو کسی اور کی یاد آتی ہے
ہم کسی اور ہی نسبت سے تمہیں دیکھتے ہیں
ساتھ غیروں کے نظر آؤ تو جی کڑھتا ہے
کیا کہیں کیسی اذیت سے تمہیں دیکھتے ہیں
جھونکنی پڑتی ہے یہ جان عذابوں میں ہمیں
کون کہتا ہے کہ سہولت سے تمہیں دیکھتے ہیں
جانے کیا لکھتے ہو کیا سوچتے رہتے ہو وصیؔ
رات کو جب بھی کبھی چھت سے تمہیں دیکھتے ہیں



پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام