بدن شیشے کا لے کر تو چلا تھا کوہساروں میں

غزل| شمیمؔ جے پوری انتخاب| بزم سخن

بدن شیشے کا لے کر تو چلا تھا کوہساروں میں
خبر کیا تھی بکھر جاؤں گا اک دن رہگزاروں میں
خدا معلوم اب وہ منصبِ سقراط کس کو دیں
ہمارا نام بھی لکھا ہوا ہے جاں نثاروں میں
وہ اک فنکار ہوگا جس کی میت میں نہ تھا کوئی
مگر نام آ گیا ہے شہر کے سب اشتہاروں میں
کوئی آ کر نکالے مجھ کو اس زندانِ حسرت سے
میں کب سے قید ہوں شہرِ تمنا کے حصاروں میں
یہ خود ان کے ہی دل کی مضمحل آواز ہے ورنہ
کوئی آہٹ نہیں ہوتی ہے تنہائی کے ماروں میں
نظر اس پر پڑی تو پھر کس جانب نہیں اٹھی
ہمیں تو اک وہی تنہا نظر آیا ہزاروں میں

شمیمؔ ان اونچے قد والوں میں آ کر ایسا لگتا ہے
کھڑا ہوں جیسے بے سایہ درختوں کی قطاروں میں


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام