وصل کی بنتی ہیں ان باتوں سے تدبیریں کہیں

غزل| حسرتؔ موہانی انتخاب| بزم سخن

وصل کی بنتی ہیں ان باتوں سے تدبیریں کہیں
آرزوؤں سے پھرا کرتی ہیں تقدیریں کہیں
بے زبانی ترجمانِ شوق بے حد ہو تو ہو
ورنہ پیشِ یار کام آتی ہیں تقریریں کہیں
مٹ رہی ہیں دل سے یادیں روزگارِ عیش کی
اب نظر کاہے کو آئیں گی یہ تصویریں کہیں
التفاتِ یار تھا اک خواب آغازِ وفا
سچ ہوا کرتی ہیں ان خوابوں کی تعبیریں کہیں

تیری بے صبری ہے حسرتؔ خامکاری کی دلیل
گریۂ عشاق میں ہوتی ہیں تاثیریں کہیں


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام