یہ اب کھلا کہ کوئی بھی منظر مرا نہ تھا

غزل| افتخار عارفؔ انتخاب| بزم سخن

یہ اب کھلا کہ کوئی بھی منظر مرا نہ تھا
میں جس میں رہ رہا تھا وہی گھر مرا نہ تھا
میں جس کو ایک عمر سنبھالے پھرا کیا
مٹی بتا رہی ہے وہ پیکر مرا نہ تھا
موجِ ہوائے شہر مقدر جواب دے
دریا مرے نہ تھے کہ سمندر مرا نہ تھا
پھر بھی تو سنگسار کیا جا رہا ہوں میں
کہتے ہیں نام تک سرِ محضر مرا نہ تھا
نا معتبر ہوئے یہ ابھی کل کی بات ہے
شہرِ مثال میں کوئی ہم سر مرا نہ تھا

سب لوگ اپنے اپنے قبیلوں کے ساتھ تھے
اک میں ہی تھا کہ کوئی بھی لشکر مرا نہ تھا


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام