جب دعائیں بھی کچھ اثر نہ کریں

غزل| جوشؔ ملسیانی انتخاب| بزم سخن

جب دعائیں بھی کچھ اثر نہ کریں
کیا کریں صبر ہم اگر نہ کریں
داستاں ختم ہو ہی جائے گی
آپ قصہ کو مختصر نہ کریں
چھوڑتا ہی نہیں ہمیں صیاد
ورنہ پروائے بال و پر نہ کریں
قابلِ عفو میں نہیں نہ سہی
نہ کریں آپ درگزر نہ کریں
ان کو احساسِ دردِ دل کیسا
مر بھی جاؤں تو آنکھ تر نہ کریں
اس کی بے چارگی کا کیا کہنا
جس کی آہیں بھی کچھ اثر نہ کریں
یہ بھی تشہیرِ شاعری ہے جوشؔ
آپ دیوان مشتہر نہ کریں


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام