حرم شریف کی حاضری کے موقع پر ایک درد بھری مناجات

سمعانؔ خلیفہ
کلیوں پہ بہاریں ہیں غنچے بھی ہیں جوبَن پر
سر مست ہوائیں بھی نازاں گلِ گلشن پر
شبنم کی پھواروں میں بھیگی ہوئی راتیں ہیں
اور قلبِ پریشاں کی بہکی ہوئی باتیں ہیں
چوکھٹ پہ مچلنے کو بے تاب سوالی ہے
اشکوں کی ہیں برساتیں فریادِ بلالی ہے
لایا ہوں ترے در پر میں اپنی زبوں حالی
دل میرا ہے افسردہ کشکول بھی ہے خالی
اِس امتِ مرسل کی کشتی تو بھنور میں ہے
ہر سمت سے نرغے میں محصور خطر میں ہے
عصیاں کی بھری دلدل ایماں کا بھی سودا ہے
صرصر کی ہواوؤں میں ایقان کا پودا ہے
آیا ہوں ترے در پر محرومِ نوا بن کر
ٹوٹے ہوئے دل کی اک مغموم ادا بن کر
رقصاں ہیں مرے آنسو سانسوں میں ہے بے تابی
تیری ہی نوازش ہے یہ راہ بھی دکھلا دی
نَے تابِ سخن حاصل نَے لفظ کی گہرائی
لاؤں میں کہاں سے پھر گفتار وہ سِینائی
ہوں میں تو گیا گزرا کردار سے بھی عاری
باطن کی ترقی کے معیار سے بھی عاری
شیطان کے ہاتھوں سے پِٹ پِٹ کے مرے مولیٰ
اور نفس کے حملوں سے مِٹ مِٹ کے مرے مولیٰ
بے مایہ سہی لیکن محبوب کی نسبت ہے
اور اُن کی غلامی کی حاصل مجھے خَلعت ہے
جز تیری گدائی کے کچھ بھی تو نہیں حاصل
تَج دوں یہ متاعِ جاں اس کے بھی نہیں قابل
اے عشق دکھا مجھ کو انوارِ شناسائی
اِس دہر کی ظلمت میں ہوں لالۂِ صحرائی
طاعت میں بھی لذت ہو غم میں بھی مزا آئے
جب دل میں مرے یادِ محبوبِ خدا آئے
توفیقِ وفا کیشی ارزاں ہو مرے آقا
ہر پل کی غلامی کا پیماں ہو مرے آقا
لبریزِ ندامت ہو جب تک نہ یہ پیمانہ
”یوں ہاتھ نہیں آتا وہ گوہرِ یک دانہ“
اے میرے کریم آقا دل نور سے تو بھر دے
ظلمت کا بسیرا ہے اس شب کو سحر کر دے
مضرابِ ازل سے تو اِس ساز کو تڑپا دے
خُم خانۂ جنت کے جام و مئے و مینا دے
بے تاب سی آنکھوں میں ہو جلوۂ مستانہ
لہرائیں فضاوؤں میں پھر گیسوئے جانانہ
اے میرے خدا تو ہی اِس دل پہ اثر کر دے
سمعاںؔ کی خطاوؤں پر رحمت کی نظر کر دے

پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام