راز سر بستہ محبت کے زباں تک پہنچے

غزل| حفیظؔ ہوشیار پوری انتخاب| بزم سخن

راز سر بستہ محبت کے زباں تک پہنچے
بات بڑھ کر یہ خدا جانے کہاں تک پہنچے
کیا تصرف ہے ترے حسن کا اللہ اللہ
جلوے آنکھوں سے اتر کر دل و جاں تک پہنچے
تری منزل پہ پہنچنا کوئی آسان نہ تھا
سرحدِ عقل سے گزرے تو یہاں تک پہنچے
حیرتِ عشق مری حسن کا آئینہ ہے
دیکھنے والے کہاں سے ہیں کہاں تک پہنچے
کھل گیا آج نگاہیں ہیں نگاہیں اپنی
جلوے ہی جلوے نظر آئے جہاں تک پہنچے
وہی اس گوشۂ داماں کی حقیقت جانے
جو مرے دیدۂ خوں نابہ فشاں تک پہنچے
ابتدا میں جنہیں ہم ننگ وفا سمجھے تھے
ہوتے ہوتے وہ گلے حسن بیاں تک پہنچے
آہ وہ حرف تمنا کہ نہ لب تک آئے
ہائے وہ بات کہ اک اک کی زباں تک پہنچے
کس کا دل ہے کہ سنے قصۂ فرقت میرا
کون ہے جو مرے اندوہ نہاں تک پہنچے
خلش انگیز تھا کیا کیا تری مژگاں کا خیال
ٹوٹ کر دل میں یہ نشتر رگ جاں تک پہنچے
نہ پتہ سنگ نشاں کا نہ خبر رہبر کی
جستجو میں ترے دیوانے یہاں تک پہنچے
نہ غبار رہ منزل ہے نہ آواز جرس
کون مجھ رہرو گم کردۂ نشاں تک پہنچے

صاف توہین ہے یہ درد محبت کی حفیظؔ
حسن کا راز ہو اور میری زباں تک پہنچے


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام