بہار کیا اب خزاں بھی مجھ کو گلے لگائے تو کچھ نہ پائے


18-02-2019 | محسؔن نقوی

بہار کیا ، اب خزاں بھی مجھ کو گلے لگائے تو کچھ نہ پائے

میں برگِ صحرا ہوں ، یوں بھی مجھ کو ہَوا اُڑائے تو کچھ نہ پائے

میں پستیوں میں پڑا ہوا ہوں، زمیں کے ملبوس میں جڑا ہوں

مثالِ نقشِ قدم پڑا ہوں ، کوئی مٹائے تو کچھ نہ پائے

تمام رسمیں ہی توڑ دی ہیں کہ میں نے آنکھیں ہی پھوڑ دی ہیں

زمانہ اب مجھ کو آئینہ بھی مرا دکھائے تو کچھ نہ پائے

عجیب خواہش ہے میرے دل میں ، کبھی تو میری صدا کو سن کر

نظر جھکائے تو خوف کھائے ، نظر اُٹھائے تو کچھ نہ پائے

میں اپنی بے مائیگی چھپا کر کواڑ اپنے کھلے رکھوں گا

کہ میرے گھر میں اداس موسم کی شام آئے تو کچھ نہ پائے

تو آشنا ہے نہ اجنبی ہے ، ترا مرا پیار سرسری ہے

مگر یہ کیا رسمِ دوستی ہے ، تو روٹھ جائے تو کچھ نہ پائے

 

اُسے گنوا کر پھر اس کو پانے کا شوق دل میں تو یوں ہے محسؔن

کہ جیسے پانی پہ دائرہ سا ، کوئی بنائے تو کچھ نہ پائے




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
اشک اپنا کہ تمہارا نہیں دیکھا جاتا
بنامِ طاقت کوئی اشارہ نہیں چلے گا
بھری بہار میں اب کے عجیب پھول کھلے
زمانہ بھر کی نگاہوں میں جو خدا سا لگے
چہرے پڑھتا آنکھيں لکھتا رہتا ہوں