بنامِ طاقت کوئی اشارہ نہیں چلے گا


16-04-2019 | محسؔن نقوی

بنامِ طاقت کوئی اشارہ نہیں چلے گا

اُداس نسلوں پہ اب اجارہ نہیں چلے گا

ہم اپنی دھرتی سے اپنی ہر سمت خود تلاشیں

ہماری خاطر کوئی ستارہ نہیں چلے گا

حیات اب شامِ غم کی تشبیہ خود بنے گی

تمہاری زلفوں کا استعارہ نہیں چلے گا

چلو سروں کا خراج نوکِ سناں کو بخشیں

کہ جاں بچانے کا استخارہ نہیں چلے گا

ہمارے جذبے بغاوتوں کو تراشتے ہیں

ہمارے جذبوں پہ بس تمہارا نہیں چلے گا

ازل سے قائم ہیں دونوں اپنی ضدوں پہ محسنؔ

چلے گا پانی مگر کنارہ نہیں چلے گا




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
اشک اپنا کہ تمہارا نہیں دیکھا جاتا
صفحۂ وقت پہ تحریر بدل جاتی ہے
زمانہ بھر کی نگاہوں میں جو خدا سا لگے
بہار کیا اب خزاں بھی مجھ کو گلے لگائے تو کچھ نہ پائے
میں خود زمیں ہوں مگر ظرف آسمان کا ہے