تہِ خنجر بھی جو بسمل نہیں ہونے پاتے

غزل| فانیؔ بدایونی انتخاب| بزم سخن

تہِ خنجر بھی جو بسمل نہیں ہونے پاتے
مر کے شرمندۂ قاتل نہیں ہونے پاتے
حرم و دیر کی گلیوں میں پڑے پھرتے ہیں
بزمِ رنداں میں جو شامل نہیں ہونے پاتے
موج نے ڈوبنے والوں کو بہت کچھ پلٹا
رخ مگر جانبِ ساحل نہیں ہونے پاتے
دل تو سب کو تری سرکار سے مل جاتے ہیں
درد جب تک نہ ملے دل نہیں ہونے پاتے
تو کہاں ہے کہ تری راہ میں یہ کعبہ و دیر
نقش بن جاتے ہیں منزل نہیں ہونے پاتے
کوئی چٹکی سی کلیجے میں لئے جاتا ہے
ہم تری یاد سے غافل نہیں ہونے پاتے
تیرا انعام سمجھتا ہوں اُن ارمانوں کو
میری کوشش کا جو حاصل نہیں ہونے پاتے
خود تجلی کو نہیں اذنِ حضوری فانیؔ
آئینے اُن کے مقابل نہیں ہونے پاتے


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام