یہاں رہنا معطل کرنے والا تھا کہ تم آئے

غزل| لیاقت علی عاصمؔ انتخاب| بزم سخن

یہاں رہنا معطل کرنے والا تھا کہ تم آئے
میں دروازہ مقفل کرنے والا تھا کہ تم آئے
تمہاری آہٹوں نے لو بچائی میری آنکھوں کی
میں خود کو خود سے اوجھل کرنے والا تھا کہ تم آئے
چھتوں پر لوگ ہوتے اور میرا رقصِ تنہائی
مجھے یہ چاند پاگل کرنے والا تھا کہ تم آئے
بہت بے سایہ و بے آب لگتی تھی زمینِ دل
سو اک آنسو کو بادل کرنے والا تھا کہ تم آئے
بلا کر اک نئے شاداب چہرے کو میں کھڑکی میں
پرانا مسئلہ حل کرنے والا تھا کہ تم آئے
تمہارے نام کی ہچکی تھی ہونٹوں پر سمٹنے کو
میں سنّاٹا مکمل کرنے والا تھا کہ تم آئے



پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام