وہی کارواں وہی قافلہ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

غزل| اسمٰعیؔل میرٹھی انتخاب| بزم سخن

وہی کارواں وہی قافلہ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی منزل اور وہی مرحلہ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
متفاعلن متفاعلن متفاعلن متفاعلن
اسے وزن کہتے ہیں شعر کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی شکر ہے جو سپاس ہے وہ ملول ہے جو اداس ہے
جسے شکوہ کہتے ہو ہے گلہ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی نقص ہے وہی کھوٹ ہے وہی ضرب ہے وہی چوٹ ہے
وہی سود ہے وہی فائدہ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی ہے ندی وہی نہر ہے وہی موج ہے وہی لہر ہے
یہ حباب ہے وہی بلبلہ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی کذب ہے وہی جھوٹ ہے وہی جرعہ ہے وہی گھونٹ ہے
وہی جوش ہے وہی ولولہ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی ساتھی ہے جو رفیق ہے وہی یار ہے جو صدیق ہے
وہی مہر ہے وہی مامتا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
جسے بھید کہتے ہو راز ہے جسے باجا کہتے ہو ساز ہے
جسے تان کہتے ہو ہے نوا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
جو مراد ہے وہی مدعا وہی متقی وہی پارسا
جو پھنسے بلا میں وہ مبتلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
جو کہا ہے میں نے مقال ہے جو نمونہ ہے سو مثال ہے
مری سرگزشت ہے ماجرا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
جو چنانچہ ہے وہی جیسا ہے جو چہ گونہ ہے وہی کیسا ہے
جو چناں چنیں ہے سو ہٰکذا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی خوار ہے جو ذلیل ہے وہی دوست ہے جو خلیل ہے
بد و نیک کیا ہے برا بھلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام