دلدار بڑے آئے محبوب بڑے دیکھے

نعت| محمد علی ظہورؔی انتخاب| بزم سخن

دلدار بڑے آئے محبوب بڑے دیکھے
جو دیکھے سبھی ان کے قدموں میں پڑے دیکھے
سردارِ دو عالم کی تعظیم کے کیا کہنے
مرسل بھی سبھی جن کی راہوں میں کھڑے دیکھے
یاد ان کے مدینے کی جب دل میں اتر آئی
پلکوں کے کناروں پہ موتی سے جڑے دیکھے
محبوب کی مدحت میں ہے تابِ سخن کس کو
سب اہلِ سخن میں نے حیرت میں گڑھے دیکھے

ان جیسا ظہورؔی اب آئے گا نہ دنیا میں
دلدار بڑے آئے محبوب بڑے دیکھے


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام