توقع سے سوا عیار نکلی

غزل| شاہدؔہ حسن انتخاب| بزم سخن

توقع سے سوا عیار نکلی
یہ دنیا باعثِ آزار نکلی
بظاہر خوبصورت زندگی بھی
کسی کے عشق میں بیمار نکلی
انہیں میں گھر گئی ہوں پھر سے اکثر
میں جن حالات سے ہر بار نکلی
زیاں میرا تھا اس کے فائدوں میں
محبت بھی تو کاروبار نکلی
تعاقب کر رہی ہے یاد اس کی
میں اس کی قید سے بے کار نکلی
سنانا چاہتا تھا جو وہ مجھ کو
وہ سب سننے کو میں تیار نکلی
اسی رخ پر بہے سب جا رہے ہیں
کوئی بستی سمندر پار نکلی


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام