لباس تن پہ سلامت ہیں ہاتھ خالی ہیں

غزل| محسنؔ احسان انتخاب| بزم سخن

لباس تن پہ سلامت ہیں ہاتھ خالی ہیں
ہم ایک ملکِ خدا داد کے سوالی ہیں
نہ ہم میں عقل و فراست نہ حکمت و تدبیر
مگر ہے زعم کہ جمعیتِ مثالی ہیں
منافقت نے لہو تن میں اتنا گرمایا
کہ گفتگو میں ریا کاریاں سجا لی ہیں
خود اپنے آپ سے کد اس قدر ہمیں ہے کہ اب
روایتیں ہی گلستاں کی پھونک ڈالی ہیں
ہمارے دل ہیں اب آماج گاہِ حرص و ہوس
کہ ہم نے سینوں میں تاریکیاں اگا لی ہیں
نشیمنوں کو اجاڑا کچھ اس طرح جیسے
کہ فاختائیں درختوں سے اڑنے والی ہیں

کسی غریب اپاہج فقیر کی محسنؔ
کسی امیر نے بیساکھیاں چرا لی ہیں


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام