کرنوں کے بے جان بدن پر ڈال کے چادر کالی کو

غزل| مسعودؔ احمد انتخاب| بزم سخن

کرنوں کے بے جان بدن پر ڈال کے چادر کالی کو
قطرہ قطرہ چوس رہی تھی رات شفق کی لالی کو
اپنے نام کی پرچی ڈال کے بھیج دیا تو ڈوب گئی
کتنی بار بھنور نے بھیجا واپس کشتی خالی کو
جیتے جی امکان نہیں ہے ان زخموں کے بھرنے کا
اتنی ٹیسیں چھوڑ گیا ہے وہ ان میں رکھوالی کو
حالانکہ اس بستی میں اک پھولوں کا بازار بھی تھا
دل نے روز تلاش کیا گلیوں میں پھولوں والی کو

نیند اڑی تو سارے سپنے اس کے گھر کی رونق تھے
آنکھوں نے تسخیر کیا تھا خوابوں میں خوشحالی کو


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام