آگ تو بجھ جائے گی بس اک دھواں رہ جائے گا

غزل| افضلؔ منھاس انتخاب| بزم سخن

آگ تو بجھ جائے گی بس اک دھواں رہ جائے گا
یہ دھواں بھی رفتہ رفتہ پھر کہاں رہ جائے گا
زندگی ہے کانچ کی چوڑی اچانک ٹوٹ کر
گر پڑے گی اور کلائی پر نشاں رہ جائے گا
دیکھنے والی سبھی آنکھیں چرا لی جائیں گی
اپنا منظر دیکھنے کو آسماں رہ جائے گا
وہ ملے گا یوں کہ سارے فاصلے مٹ جائیں گے
ایک خنجر اس کے میرے درمیاں رہ جائے گا
اب جہاں خوش رنگ چہروں کی سجی ہیں محفلیں
ایک آنسو سنگ کی صورت وہاں رہ جائے گا

کیوں نہ میں افضلؔ سخن کے پھول اُس کو بخش دوں
میں چلا جاؤں گا خوشبو کا جہاں رہ جائے گا


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام