ہمرہی کی بات مت کر امتحاں ہو جائے گا

غزل| نصیرؔ ترابی انتخاب| بزم سخن

ہمرہی کی بات مت کر امتحاں ہو جائے گا
ہم سُبک ہوجائیں گے تجھ کو گراں ہو جائے گا
جب بہار آ کر گزر جائے گی اے سردِ بہار
ایک رنگ اپنا بھی پیوندِ خزاں ہو جائے گا
ساعتِ ترکِ توقع بھی قریب آ ہی گئی
کیا یہ اپنا سب تعلق رائیگاں ہوجائے گا
یہ ہوا سارے چراغوں کو اڑا لے جائے گی
رات ڈھلنے تک یہاں سب کچھ دھواں ہو جائے گا
اس ہوا میں اپنی راتوں سے بھی کچھ وعدے کرو
اے چراغو! آخر ایسا کیا زیاں ہو جائے گا
چشم و دل کی راہ میں کچھ بستیاں آباد ہیں
رفتہ رفتہ ایک دریا درمیاں ہو جائے گا
ایک سیلاب آ رہا ہے بند باندھو ورنہ پھر
شہر والو! شہر یہ بے خانماں ہو جائے گا
دل زَدو! اِن بے شجر رستوں کو طے کرتے رہو
کوئی ابرِ مہرباں بھی سائباں ہو جائے گا

شاخِ دل پھر سے ہری ہونے لگی دیکھو نصؔیر
ایسا لگتا ہے کسی کا آشیاں ہو جائے گا


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام