آج کسی کی یاد آئی ہے وہ بھی اتنی رات گئے

غزل| متینؔ امروہوی انتخاب| بزم سخن

آج کسی کی یاد آئی ہے وہ بھی اتنی رات گئے
کھوئی ہوئی اک شے پائی ہے وہ بھی اتنی رات گئے
اے غنچو! آہستہ کھلنا ٹوٹ نہ جائے خواب اپنا
مشکل سے تو نیند آئی ہے وہ بھی اتنی رات گئے
وہ سوئے تو گجرہ مہکے جاگے تو جگنو چمکے
رات کی رانی مسکائی ہے وہ بھی اتنی رات گئے
دردِ جگر نے جب تڑپایا ہوش و خرد نے سمجھایا
آہیں بھرنا رسوائی ہے وہ بھی اتنی رات گئے

در پہ متینؔ ان کے جو پہنچے فرطِ خوشی سے وہ بولے
کیسے زحمت فرمائی ہے وہ بھی اتنی رات گئے


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام