ہمارا ہو گیا وہ دشمنِ جاں کون کہتا ہے

غزل| احسان دانشؔ انتخاب| بزم سخن

ہمارا ہو گیا وہ دشمنِ جاں کون کہتا ہے
کبھی یکجا ہوئے ہیں کفر و ایماں کون کہتا ہے
کہیں جھلسی ہوئی شاخیں کہیں مسلی ہوئی کلیاں
تباہی ہے اسے حسنِ بہاراں کون کہتا ہے
چمن کی پشت سے آتی ہیں آوازیں کدالوں کی
نہیں خطرہ میں دیوارِ گلستان کون کہتا ہے
یہ مانا میرے غم خانے میں تاریکی نہیں لیکن
یہ آنسو ہیں انھیں شمعِ فروزاں کون کہتا ہے
چمن پر گرم تاریکی کا سایہ دیکھنے والے
دھواں ہے یہ اسے ابرِ بہاراں کون کہتا ہے

ہوائیں بند مٹی تشنہ لب اور چاندنی راتیں
نہیں آئے گا اب اک اور طوفاں کون کہتا ہے


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام