چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ

غزل| مصطفی زیدیؔ انتخاب| بزم سخن

چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ
ہم اس کے پاس جاتے ہیں مگر آہستہ آہستہ
دکھا دینا اُسے زخمِ جگر آہستہ آہستہ
سمجھ کر سوچ کر پہچان کر آہستہ آہستہ
ڈھلے گی رات آئے گی سحر آہستہ آہستہ
پیو ان انکھڑیوں کے نام پر آہستہ آہستہ
ابھی تاروں سے کھیلو چاندنی سے دل کو بہلاؤ
ملے گی اس کے چہرے کی سحر آہستہ آہستہ
دریچوں کو تو دیکھو چلمنوں کے راز تو سمجھو
اٹھیں گے پردہ ہائے بام و در آہستہ آہستہ
یوں ہی اک روز اپنے دل کا قصہ بھی سنا دینا
خطاب آہستہ آہستہ نظر آہستہ آہستہ
یکایک ایسے جل بجھنے میں لطفِ جانکنی کب تھا
جلے اک شمع پر ہم بھی مگر آہستہ آہستہ


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام