چھیڑ اے دل یہ کسی شوخ کے رخساروں سے

غزل| فراؔق گورکھپوری انتخاب| بزم سخن

چھیڑ اے دل یہ کسی شوخ کے رخساروں سے
کھیلنا آہ دہکتے ہوئے انگاروں سے
ہم شبِ ہجر میں جب سوتی ہے ساری دنیا
ذکر کرتے ہیں ترا چھٹکے ہوئے تاروں سے
اشک بھر لائے کسی نے جو ترا نام لیا
اور کیا ہجر میں ہوتا ترے بیماروں سے
چھیڑ نغمہ کوئی گو دل کی شکستہ ہیں رگیں
ہم نکالیں گے صدا ٹوٹے ہوئے تاروں سے
ہم کو تیری ہے ضرورت نہ اسے بھول اے دوست
تیرے اقراروں سے مطلب ہے نہ انکاروں سے
ہم ہیں وہ بے کس و بے یار کہ بیٹھے بیٹھے
اپنا دکھ درد کہا کرتے ہیں دیواروں سے
اہلِ دنیا سے یہ کہتے ہیں مرے نالۂ دل
ہم صدا دیں گے غمِ ہجر کے میناروں سے
عشق ہمدردیٔ عالم کا روا دار نہیں
ہو گئی بھول فراقؔ آپ کے غم خواروں سے



پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام