بھروسہ مت کروسانسوں کی ڈوری ٹوٹ جاتی ہے

غزل| منورؔ رانا انتخاب| بزم سخن

بھروسہ مت کروسانسوں کی ڈوری ٹوٹ جاتی ہے
چھتیں محفوظ رہتی ہیں حویلی ٹوٹ جاتی ہے
محبت بھی عجب شے ہے وہ جب پردیس میں روئے
تو فوراً ہاتھ کی ایک آدھ چوڑی ٹوٹ جاتی ہے
کہیں کوئی کلائی ایک چوڑی کو ترستی ہے
کہیں کنگن کے جھٹکے سے کلائی ٹوٹ جاتی ہے
لڑکپن میں کئے وعدے کی قیمت کچھ نہیں ہوتی
انگوٹھی ہاتھ میں رہتی ہے منگنی ٹوٹ جاتی ہے
کسی دن پیاس کے بارے میں اس سے پوچھیے جس کی
کنویں میں بالٹی رہتی ہے رسی ٹوٹ جاتی ہے
کبھی اک گرم آنسو کاٹ دیتا ہے چٹانوں کو
کبھی اک موم کے ٹکڑے سے چھینی ٹوٹ جاتی ہے



پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام