تعارف شاعر

poet

امیرؔ مینائی

اردو زبان و ادب کے مشہور و معروف نعت خواں شاعر اور ’’خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔ / سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے‘‘ مشہور و معروف شعر لکھنے والے شاعر جناب امیر مینائی 21/ فروری 1829ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔

آپ کا اصل نام امیر احمد اور تخلص امیرؔ تھا ، خاندانِ صابریہ چشتیہ کے سجادہ نشین حضرت امیر شاہ سے بیعت اور مخدوم شاہ مینا سے خاندانی تعلق کی وجہ سے مینائی کہلائے ، ابتدائی تعلیم فرنگی محل میں حاصل کی ، بچپن ہی سے شعر و سخن کا ذوق تھا اور اسی ذوق و شوق میں جناب مظفر علی اسیؔر لکھنوی کی شاگردی اختیارکی ، 1852ء میں نواب واجد علی شاہ کے دربار سے تعلق ہوا اور ان کی ایماء پر دو کتابیں ’’شاد سلطان‘‘ اور ’’ہدایت سلطان‘‘ تصنیف کیں ، پھر وہاں سے نواب یوسف علی خاں کی دعوت پر رامپور گئےاور نواب صاحب کے انتقال کے بعد رامپور چھوڑ حیدر آباد دکن گئے اور 13/ اکتوبر 1900ء کو وہیں انتقال کیا۔

جناب امیرؔ مینائی اردو شعر و ادب میں ایک معتبر حوالہ کا درجہ رکھتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ مشہور و معروف شعراء میں جناب ریاضؔ خیرآبادی ، جلیلؔ مانک پوری، مضطرؔ خیرآبادی اور حفیظؔ جونپوری ان کے شاگرد گردانے جاتے ہیں ، ساتھ ساتھ متعدد کتابوں کے مصنف بھی ہیں ، شعر و سخن میں ’’مراۃ الغیب‘‘ ،’’صنم خانۂ عشق‘‘ ، ایک نعتیہ مجموعہ ’’محمد خاتم النبین‘‘ ، مثنوی میں’’نورِ تجلی‘‘ اور ’’ابرِ کرم‘‘ مقبول ہیں جب کہ نثرمیں ’’یادگار شعرائے رام پور‘‘ آپ کی تحقیق سے مزین ہے ، ماہر لغات ہونے کی بنا پر ’’امیر اللغات‘‘ کی تین جلدیں بھی ترتیب دی ہیں اور’’سرمۂ بصیرت‘‘ کے نام سے ایک فرہنگ و قاموس بھی ہے۔

تصویر / نعت کائنات


امیرؔ مینائی کا منتخب کلام