ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا

غزل| مرزا غالبؔ انتخاب| بزم سخن

ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا
بن گیا رقیب آخر تھا جو راز داں اپنا
مے وہ کیوں بہت پیتے بزمِ غیر میں یا رب
آج ہی ہوا منظور اُن کو امتحاں اپنا
منظر اک بلندی پر اور ہم بنا سکتے
عرش سے اُدھر ہوتا کاش کے مکاں اپنا
دے وہ جس قدر ذلت ہم ہنسی میں ٹالیں گے
بارے آشنا نکلا ان کا پاسباں اپنا
دردِ دل لکھوں کب تک جاؤں ان کو دکھلا دوں
انگلیاں فگار اپنی خامہ خونچکاں اپنا
گھستے گھستے مٹ جاتا آپ نے عبث بدلا
ننگ سجدہ سے میرے سنگِ آستاں اپنا
تا کرے نہ غمازی کرلیا ہے دشمن کو
دوست کی شکایت میں ہم نے ہم زباں اپنا
ہم کہاں کے دانا تھے کس ہنر میں یکتا تھے
بے سبب ہوا غالبؔ دشمن آسماں اپنا​



پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام