اب کے موسم میں عجب شعبدہ پیرائی ہے

غزل| اخترؔ ضیائی انتخاب| بزم سخن

اب کے موسم میں عجب شعبدہ پیرائی ہے
جیسے روٹھی ہوئی ہر شاخ سے پروائی ہے
موت کے خوف سے جیتے ہیں نہ مر سکتے ہیں
ان کو اصرار کہ یہ دورِ مسیحائی ہے
جب سے پھیری ہیں زمانے نے نگاہیں ہم سے
ہم نے حالات بدلنے کی قسم کھائی ہے
جن کی بے داد سے رسوائی ہوئی جی سے گئے
وہ بھی کہتے ہیں کہ نادان ہے سودائی ہے
خود ہی کر لیجئے اس طرزِ عمل کی تاویل
ہم سے رغبت نہیں غیروں سے شناسائی ہے
نہ تبسم ، نہ تکلم ، نہ محبت کی نظر
کتنا دلچسپ یہ اندازِ پذیرائی ہے
سایۂ زلف کی امید کہاں ، دید کہاں؟
کہ مقدر میں سیہ رات ہے تنہائی ہے
مستقل چیز ہے حوروں کی جوانی واعظ
سچ ہے کہ آپ کی ہر بات میں گہرائی ہے

اس کی نیت پہ بھلا مجھ کو ہو کیا شک اخترؔ
وہ جو یوسف کا خریدار نہیں بھائی ہے


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام