بہت خوبصورت ہو تم ، بہت خوبصورت ہو تم


06-08-2015 | طاہر فرازؔ

بہت خوب صورت ہو تم ، بہت خوب صورت ہو تم

بہت خوب صورت ہو تم ، بہت خوب صورت ہو تم

                                                                 

کبھی میں جو کہہ دوں... محبت ہے تم سے.... تومجھ کو خدارا...... غلط مت سمجھنا

کہ میری ضرورت ہو تم..... بہت خوب صورت ہو تم

بہت خوب صورت ہو تم..... بہت خوب صورت ہو تم

بہت خوب صورت ہو تم ، بہت خوب صورت ہو تم

بہت خوب صورت ہو تم ، بہت خوب صورت ہو تم

 

ہے پھولوں کی ڈالی... یہ باہیں تمہاری...... ہے خاموش جادو... نگاہیں تمہاری

جو کانٹے ہوں سب اپنے دامن میں رکھ لوں , سجاؤں میں کلیوں سے راہیں تمہاری

نظر سے زمانے..... کی خود کو بچانا.......... کسی اور سے..... دیکھو دل نہ لگانا

کہ میری امانت ہو تم........ بہت خوب صورت ہو تم

بہت خوب صورت ہو تم..... بہت خوب صورت ہو تم

بہت خوب صورت ہو تم ، بہت خوب صورت ہو تم

بہت خوب صورت ہو تم ، بہت خوب صورت ہو تم

 

ہے چہرہ تمہارا.... کہ دن ہے سنہرا........ اور اُس پر یہ کالی.... گھٹاؤں کا پہرا

گلابوں سے نازک... مہکتا بدن ہے...... یہ لب ہیں تمہارے... کہ کِھلتا چمن ہے

بکھیرو جو زلفیں.... تو شرمائے بادل...... یہ زاہد بھی دیکے .... تو ہوجائے پاگل

وہ پاکیزہ مورت ہو تم........ بہت خوب صورت ہو تم

بہت خوب صورت ہو تم..... بہت خوب صورت ہو تم

بہت خوب صورت ہو تم ، بہت خوب صورت ہو تم

بہت خوب صورت ہو تم ، بہت خوب صورت ہو تم

 

جو بن کے کلی..... مسکراتی ہے اکثر......... شبِ ہجر میں جو.... رُلاتی ہے اکثر

جو لمحوں ہی لمحوں، میں دنیا بدل دے...... جو شاعر کو دے ،جائے پہلو غزل کے

بُھلانا جو چاہیں ..... بُھلائی نہ جائے......... چُھپانا جو چاہیں ..... چُھپائی نہ جائے

وہ پہلی محبت ہو تم.......... بہت خوب صورت ہو تم

بہت خوب صورت ہو تم.... بہت خوب صورت ہو تم




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
بہت خوبصورت ہو تم ، بہت خوبصورت ہو تم
جب کبھی بولنا وقت پر بولنا
غم اس کا کچھ نہیں ہے کہ میں کام آگیا
اترتا ہے جو آنکھوں سے تمہارے غم کا پیراہن