آپؐ اکیلے مل جائیں تو دامن تھام کے رو لوں گا

شاؔذ تمکنت
آپؐ اکیلے مل جائیں تو دامن تھام کے رو لوں گا
آپؐ اکیلے مل جائیں تو دامن تھام کے رو لوں گا
دنیا جیسے ایک کھلونا
ہر پہلو رنگین سلونا
عمر کٹی ہے سمجھانے میں
اپنے آپ کو بہلانے میں
دفترِ حسرت اپنے خدا کے آگے کیسے کھولوں گا
آپؐ اکیلے مل جائیں تو دامن تھام کے رو لوں گا
جی غم سے ہے بوجھل بوجھل
رات اندھیری گہرے بادل
اپنے گناہوں کی ہے کہانی
بہتے ہوئے اشکوں کی زبانی
سب کے آگے کیسے بولوں تنہائی میں بولوں گا
آپؐ اکیلے مل جائیں تو دامن تھام کے رو لوں گا
بھیڑ بہت ہوگی تو کیا غم
میرا مقدر دیدۂِ پرنم
جب مہکے خوشبوئے بہاری
جب اترے جلوے کی سواری
میں تو سراپا نادم نادم پیچھے پیچھے ہو لوں گا
آپؐ اکیلے مل جائیں تو دامن تھام کے رو لوں گا
کوئی کیا دے کوئی کیا لے
حسنِ طلب کے ڈھنگ نرالے
کس سے مانگوں کیا کیا مانگوں
دنیا مانگوں عقبیٰ مانگوں
آپؐ کے دستِ کرم سے لوں گا سوچ رکھا ہے جو لوں گا
آپؐ اکیلے مل جائے تو دامن تھام کے رو لوں گا
کس سے پیماں باندھ رہا ہوں
خاک میں ہوں لیکن میں بھی کیا ہوں
کس کے ہجر کا غم سہتا ہوں
میری سنو میں سچ کہتا ہوں
گاہک ہوں گے چاند اور سورج جب اشکوں کو تو لوں گا
آپؐ اکیلے مل جائے تو دامن تھام کے رولوں گا
شاذؔ وطن میں بے وطنی ہے
آگے دیکھو چھاوں گھنی ہے
ہجر کا قصہ پاک کرو بھی
دامنِ جاں اب چاک کرو بھی
عمر کی رات آنکھوں میں کٹی ہے پل دو پل کو سو لوں گا
آپؐ اکیلے مل جائے تو دامن تھام کے رو لوں گا

پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام