اپنی کشتی کو روانی سے الگ رکھتا ہوں


12-07-2019 | رئیسؔ انصاری

اپنی کشتی کو روانی سے الگ رکھتا ہوں

آگ ہوں آگ کو پانی سے الگ رکھتا ہوں

ایک مدت سے تجھے دل میں بسا رکھا ہے

میں تجھے یاد دہانی سے الگ رکھتا ہوں

وہ سنے گا تو چھلک اٹھے گی آنکھیں اس کی

اس لئے خود کو کہانی سے الگ رکھتا ہوں

وہ جو بچپن میں ترے ساتھ پڑھا کرتا تھا

ان کتابوں کو نشانی سے الگ رکھتا ہوں

 

تذکرہ اس کا غزل میں نہیں کرتا ہوں رئیسؔ

میں اسے لفظ و معانی سے الگ رکھتا ہوں




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
میں ترے درد کو غزلوں میں لیے پھرتا ہوں
اپنی کشتی کو روانی سے الگ رکھتا ہوں