زباں تک جو نہ آئے وہ محبت اور ہوتی ہے


05-07-2019 | وامقؔ جونپوری

زباں تک جو نہ آئے وہ محبت اور ہوتی ہے

فسانہ اور ہوتا ہے حقیقت اور ہوتی ہے

نہیں ملتے تو ایک ادنیٰ شکایت ہے نہ ملنے کی

مگر مل کر نہ ملنے کی شکایت اور ہوتی ہے

یہ مانا شیشۂ دل رونقِ بازارِ الفت ہے

مگر جب ٹوٹ جاتا ہے تو قیمت اور ہوتی ہے

نگاہیں تاڑ لیتی ہیں محبت کی اداؤں کو

چھپانے سے زمانے بھر کی شہرت اور ہوتی ہے

 

یہ مانا حسن کی فطرت بہت نازک ہے اے وامقؔ

مزاجِ عشق کی لیکن نزاکت اور ہوتی ہے




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
زباں تک جو نہ آئے وہ محبت اور ہوتی ہے