زباں تک جو نہ آئے وہ محبت اور ہوتی ہے

غزل| وامقؔ جونپوری انتخاب| بزم سخن

زباں تک جو نہ آئے وہ محبت اور ہوتی ہے
فسانہ اور ہوتا ہے حقیقت اور ہوتی ہے
نہیں ملتے تو ایک ادنیٰ شکایت ہے نہ ملنے کی
مگر مل کر نہ ملنے کی شکایت اور ہوتی ہے
یہ مانا شیشۂ دل رونقِ بازارِ الفت ہے
مگر جب ٹوٹ جاتا ہے تو قیمت اور ہوتی ہے
نگاہیں تاڑ لیتی ہیں محبت کی اداوؤں کو
چھپانے سے زمانے بھر کی شہرت اور ہوتی ہے

یہ مانا حسن کی فطرت بہت نازک ہے اے وامقؔ
مزاجِ عشق کی لیکن نزاکت اور ہوتی ہے


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام