نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں


27-06-2019 | مضطرؔ خیر آبادی

نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں ، نہ کسی کے دل کا قرار ہوں

کسی کام میں جو نہ آ سکے ، میں وہ ایک مشتِ غبار ہوں

 

 

نہ دوائے دردِ جگر ہوں میں ، نہ کسی کی میٹھی نظر ہوں میں

نہ ادھر ہوں میں نہ ادھر ہوں میں نہ شکیب ہوں نہ قرار ہوں

 

مرا رنگ روپ بگڑ گیا ، مرا بخت مجھ سے بچھڑ گیا

جو چمن خزاں سے اجڑ گیا ، میں اسی کی فصلِ بہار ہوں

 

پئے فاتحہ کوئی آئے کیوں ، کوئی چار پھول چڑھائے کیوں

کوئی آ کے شمع جلائے کیوں ، میں وہ بیکسی کا مزار ہوں

 

نہ میں لاگ ہوں نہ لگاؤ ہوں ، نہ سہاگ ہوں نہ سبھاؤ ہوں

جو بگڑ گیا وہ بناؤ ہوں ، جو نہیں رہا وہ سنگار ہوں

 

میں نہیں ہوں نغمۂ جاں فزا ، مجھے سن کے کوئی کرے گا کیا

میں بڑے بروگ کی ہوں صدا ، میں بڑے دکھی کی پکار ہوں

 

نہ میں مضطرؔ ان کا حبیب ہوں نہ میں مضطرؔ ان کا رقیب ہوں

جو بگڑ گیا وہ نصیب ہوں ، جو اجڑ گیا وہ دیار ہوں




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں