خاموش ہو کیوں دادِ جفا کیوں نہیں دیتے


23-06-2019 | احمد فرازؔ

خاموش ہو کیوں دادِ جفا کیوں نہیں دیتے

بسمل ہو تو قاتل کو دعا کیوں نہیں دیتے

وحشت کا سبب روزنِ زنداں تو نہیں ہے

مہر و مہ و انجم کو بجھا کیوں نہیں دیتے

اِک یہ بھی تو اندازِ علاجِ غمِ جاں ہے

اے چارہ گرو! درد بڑھا کیوں نہیں دیتے

منصف ہو اگر تم تو کب انصاف کرو گے

مجرم ہیں اگر ہم تو سزا کیوں نہیں دیتے

رہزن ہو تو حاضر ہے متاعِ دل و جاں بھی

رہبر ہو تو منزل کا پتہ کیوں نہیں دیتے

کیا بیت گئی اب کے فرازؔ اہلِ چمن پر

یارانِ قفس مجھ کو صدا کیوں نہیں دیتے




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
اپنی محبت کے افسانے کب تک راز بناؤگے
اب کے ہم بچھڑے تو شايد کبھی خوابوں ميں مليں
گفتگو اچھی لگی ذوقِ نظر اچھا لگا
اگر کسی سے مراسم بڑھانے لگتے ہیں
تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہوگئے