پرچھائیوں کی انجمن آرائی دے گیا


21-06-2019 | قتیلؔ شفائی

پرچھائیوں کی انجمن آرائی دے گیا

کتنی عجیب وہ مجھے تنہائی دے گیا

ایک ایک پل میں بیت رہی ہے ہزار عمر

صدیوں کا انتظار وہ ہرجائی دے گیا

وہ کتنا ہوش مند تھا جو میرے نام سے

مشہور خود ہوا مجھے رسوائی دے گیا

میرا کیا علاج محبت کے زہر سے

قاتل مجھے فریبِ مسیحائی دے گیا

 

چہرے اب اصل روپ میں آئیں نظر قتیلؔ

آنکھیں چُرا کے وہ مجھے بینائی دے گیا




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
پرچھائیوں کی انجمن آرائی دے گیا
بہت دنوں سے نہیں اپنے درمیاں وہ شخص
حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں
اُس ادا سے بھی ہوں میں آشنا تجھے اتنا جس پہ غرور ہے
دیکھ کر اس کو زمانہ دنگ ہے