نہ رہی وہ بزمِ عشرت نہ وہ عیشِ جاودانہ


13-06-2019 | پیر سید نصیر الدین نصیؔر

نہ رہی وہ بزمِ عشرت نہ وہ عیشِ جاودانہ

تیری ایک نظر نے لوٹا میری عمر کا خزانہ

نہ کہیں کا تو نے چھوڑا مجھے گردشِ زمانہ

نہیں ڈھونڈنے سے ملتا کہیں اب کوئی ٹھکانہ

یہی عین بندگی ہے ، یہی رمزِ عارفانہ

تیرے آستاں پہ آنا تیرے در پہ سر جھکانا

میرے بد نصیب دل کو نہ ملا کوئی ٹھکانہ

نہ حریمِ لالہ و گل ، نہ قفس نہ آشیانہ

نہیں مجھ کو اس کی پرواہ جو برا کہے زمانہ

میری عین بندگی ہے تیرے در پہ سر جھکانا

تیرے سنگِ آستاں پہ یہ ملی ہے سربلندی

میرا تاجِ سروری ہے تیری خاکِ آستانہ

یہ وفاؤں کا صلہ ہے یہ کرم کی انتہا ہے

مجھے اس نے اپنا سمجھا ، مجھے اس نے اپنا جانا

مجھے یاد آ رہا ہے وہ نظر نواز منظر

وہ میرا لپٹ کے رونا ، وہ کسی کا مسکرانا

 

نہیں ان کی ذات سے کچھ مجھے اے نصیؔر نسبت

میں گلِ خزاں رسیدہ ، وہ بہارِ جاودانہ




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
نہ رہی وہ بزمِ عشرت نہ وہ عیشِ جاودانہ