بے کلی ہے اور دلِ ناشاد ہے


10-05-2019 | کلیم احمد عاجزؔ

بے کلی ہے اور دلِ ناشاد ہے

اب انہیں دونوں سے گھر آباد ہے

اب انہیں کی فکر میں صیاد ہے

جن کے نغموں سے چمن آباد ہے

جو مجھے برباد کر کے شاد ہے

اس ستم گر کو مبارک باد ہے

تم نے جو چاہا وہی ہو کر رہا

یہ ہماری مختصر روداد ہے

ہم نے تم سے رکھ کے امیدِ کرم

وہ سبق سیکھا کہ اب تک یاد ہے

بے بسی بن کر نہ ٹپکے آنکھ سے

دل میں جو اک حسرتِ فریاد ہے




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
کہو صبا سے کہ میرا سلام لے جائے
حقیقتِ حسن ۔ ۔ ۔ ۔حسن کاکل میں نہ گیسوئے
غزلیں بھی کہیں پُرغم کتنی اس پر بھی علاجِ غم نہ ہوا
جس پر بھی جوانی آتی ہے اور تھوڑا جمال آجاتا ہے
رات جی کھول کے پھر میں نے دعا مانگی ہے