جب ذرا زخمِ دلِ بیمار بھرنے آئے ہے


09-05-2019 | ظفرؔ فیروز بدایونی

جب ذرا زخمِ دلِ بیمار بھرنے آئے ہے

یادِ ایامِ محبت پھر ہوا دے جائے ہے

اتفاقاً جب اسے میرا خیال آ جائے ہے

روئے ہے گھبرائے ہے بل کھائے ہے شرمائے ہے

لب تک آتے آتے رہ جائے ہے ذکرِ حالِ دل

اُٹھتے اٹھتے وہ نگاہِ شرمگیں بھر جائے ہے

رخصت ائے شامِ جدائی ، الوداع ائے یادِ دوست

سونے والے جاگتے ہیں اب مجھے نیند آئے ہے

ختم کر رودادِ غم ، عرضِ وفا ، احوالِ شوق

آنکھ اُٹھا کر دیکھ جسمِ یار بھیگا جائے ہے

اپنی بربادی پہ ان کو خندہ لب پا کر ظفرؔ

احتراماً میرے لب پر بھی ہنسی آ جائے ہے




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
جب ذرا زخمِ دلِ بیمار بھرنے آئے ہے
ہر کوششِ پیہم خام ہوئی ہر سعیٔ طلب ناکام رہی