دیکھ کر اس کو زمانہ دنگ ہے


24-03-2019 | قتیلؔ شفائی

دیکھ کر اس کو زمانہ دنگ ہے

ایک بگلے کا گلابی رنگ ہے

شیخ جی پر مر مٹے کوئی حسیں

دل لگی کا ایک یہ بھی ڈھنگ ہے

جانتا ہے کچھ وہی صحت کا راز

پیرہن جس کے بدن پر تنگ ہے

احتراماً ان کو کہتے ہیں بزرگ

جن کے اندر کائی باہر زنگ ہے

ائے سگانِ شہر مژدہ  ہو تمہیں

اپنے بازاروں میں قحطِ سنگ ہے

یا خدا ان شاعروں کو عقل دے

جن کا فن فرہنگ ہی فرہنگ ہے

 

ذائقہ منہ کا بدلنا تھا قتیلؔ

کب یہ میری شاعری کا رنگ ہے




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
یہ کس نے کہا تم کوچ کرو باتیں نہ بناؤ انشاؔ جی
اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو
بہت دنوں سے نہیں اپنے درمیاں وہ شخص
اُس ادا سے بھی ہوں میں آشنا تجھے اتنا جس پہ غرور ہے
پرچھائیوں کی انجمن آرائی دے گیا